ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / بابری مسجد: اڈوانی، جوشی، اوما بھارتی اورکلیان سنگھ سمیت 13 افرادپر مجرمانہ سازش کاکیس؟ سپریم کورٹ کا فیصلہ آج

بابری مسجد: اڈوانی، جوشی، اوما بھارتی اورکلیان سنگھ سمیت 13 افرادپر مجرمانہ سازش کاکیس؟ سپریم کورٹ کا فیصلہ آج

Wed, 19 Apr 2017 02:22:15    S.O. News Service

نئی دہلی:18/اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ میں بدھ کوایک اہم سماعت ہوگی۔ سپریم کورٹ فیصلہ کرے گا کہ بابری مسجد کی شہادت کے معاملے میں اڈوانی،مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، کلیان سنگھ سمیت 13 افراد پر مجرمانہ سازش کے تحت مقدمہ چلے یا نہیں؟ ساتھ ہی یہ بھی طے کیا جائے گا کہ رائے بریلی اور لکھنؤ میں چل رہے دونوں مقدمات کی سماعت ایک ساتھ لکھنؤ کی عدالت میں کی جائے یانہیں؟۔چھ اپریل کو حکم محفوظ رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہاتھاکہ ہم اس معاملے میں انصاف کرنا چاہتے ہیں۔ ایک ایسامعاملہ جو17 سالوں سے صرف تکنیکی خرابی کی وجہ سے رکاہے۔ اس کے لئے ہم آئین کے آرٹیکل142 کے تحت اپنے حقوق کا استعمال کرکے اڈوانی، جوشی سمیت سب پر مجرمانہ سازش کی دفعہ کے تحت مقدمے کی سماعت دوبارہ چلانے کا حکم دے سکتے ہیں۔ ساتھ ہی معاملے کو رائے بریلی سے لکھنؤمنتقل کرسکتے ہیں۔ 25 سال سے معاملہ لٹکا پڑا ہے، ہم ڈے ٹو ڈے سماعت کرکے دو سال میں سماعت مکمل کر سکتے ہیں۔سن1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے معاملہ میں بی جے پی لیڈر لال کرشن اڈوانی، یوپی کے سابق وزیر اعلی کلیان سنگھ، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی سمیت 13 رہنماؤں پر مجرمانہ سازش رچنے کے الزام ہٹائے جانے کے معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت مکمل ہوگئی ہے۔ گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے کہاتھاکہ محض ٹیکنیکل گراؤنڈ پر ان کو راحت نہیں دی جا سکتی۔بابری مسجد کی شہادت کے معاملے میں دو الگ الگ عدالتوں میں چل رہی سماعت ایک جگہ کیوں نہ ہو؟ کورٹ نے پوچھا تھا کہ رائے بریلی میں چل رہے معاملے کی سماعت کے لیے کیوں نہ لکھنؤ ٹرانسفر کر دیا جائے، جہاں کارسیوکوں سے منسلک ایک کیس کی سماعت پہلے ہی چل رہی ہے۔وہیں لال کرشن اڈوانی کی جانب سے اس کی مخالفت کی گئی۔کہاگیاکہ اس معاملے میں 183 گواہوں کو دوبارہ بلانا پڑے گا جس میں کافی مشکل ہے۔کورٹ کو سازش کے معاملے کی دوبارہ سماعت کا حکم نہیں دینا چاہئے۔سی بی آئی نے سپریم کورٹ میں کہاکہ اڈوانی، یوپی کے سابق وزیراعلیٰ کلیان سنگھ، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت13 رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ سازش کے مقدمے کی سماعت چلنی چاہئے۔سی بی آئی نے کہاکہ رائے بریلی کے کورٹ میں چل رہے کیس بھی لکھنؤ کی اسپیشل کورٹ کے ساتھ مشترکہ ٹرائل ہونا چاہئے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی دفعہ کو ہٹانے کے فیصلے کو منسوخ کیاجائے۔دراصل اڈوانی، کلیان سنگھ، مرلی منوہر جوشی اور بی جے پی، وی ایچ پی کے دیگر رہنماؤں پر سے مجرمانہ سازش رچنے کے الزام منسوخی کے معاملے میں سپریم کورٹ سماعت کر رہاہے۔ اس سے متعلق اپیلوں میں الہ آباد ہائی کورٹ کے20 مئی2010 کے حکم کومسترد کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے تعزیرات ہند کی دفعہ120 بی (مجرمانہ سازش) ہٹا دی تھی۔گزشتہ سال ستمبر میں سی بی آئی نے عدالت سے کہا تھا کہ اس کی پالیسی کا تعین عمل کسی سے بھی متاثر نہیں ہوتا اور سینئر بی جے پی لیڈروں پر سے مجرمانہ سازش رچنے کے الزام ہٹانے کی کارروائی اس (ایجنسی کے)کہنے پرنہیں ہوئی۔سی بی آئی نے ایک حلف نامے میں کہا تھا کہ سی بی آئی کی پالیسی کا تعین عمل کو مکمل طور آزادہے۔ تمام فیصلے موجودہ قانون کی روشنی میں صحیح حقائق کی بنیادپرکئے جاتے ہیں۔کسی شخص، باڈی یا ادارے سے سی بی آئی کی پالیسی کاتعین عمل کے متاثر ہونے یا عدالتوں میں کیس لڑنے کے اس طریقہ کے متاثر ہونے کا کوئی سوال نہیں ہے۔


Share: